Duniya Bhar Se Mout Ki Saza K 10 Mukhtalif Tarikay (دنیا بھرسے موت کی سزا کے 10مختلف طریقے)

دنیا بھرسے موت کی سزا کے 10مختلف طریقے

دنیا بھرسے موت کی سزا کے 10مختلف طریقے

دنیا کے مختلف ممالک میں سزائے موت کو ختم کردیا گیا ہے تاہم پاکستان سمیت بیشتر ملک ایسے ہیں جہاں اب بھی مختلف جرائم پرموت کی سزا دی جاتی ہے۔

مگرمختلف ممالک میں ملزمان کو سزائے موت دینے کا طریقہ مختلف ہوتا ہے جن سے ہوسکتا ہے آپ واقف نہ ہوں۔

 دنیا بھر میں سزائے موت کے کچھ طریقوں کا ذکر کیا گیا ہے۔

زہریلا انجیکشن

injection

زہریلے ٹیکے کے ذریعے سزائے موت امریکا میں دی جاتی ہے جس کا اصول یہ ہوتا ہے کہ ایک ٹیکا ایک فرد کو لگے گا اور اسے جو لگاتا ہے اس کا چہرہ چھپا کر رکھا جاتا ہے۔ بیشتر امریکی ریاستوں میں کوئی فرد ہی اس زہریلے ٹیکے کو قیدیوں کو لگاتا ہے جبکہ کچھ جگہ مشینوں کو بھی استعمال کیا گیا تاہم تیکیکی خرابیوں کے باعث اسے ختم کردیا گیا۔

عام طور پر زہریلے ٹیکے کے لیے پینتھاہول کو استعمال کیا جاتا ہے جو عام طور پر آپریشن کے دوران مریضوں کے لیے بے ہوش کرنے کے لیے بھی استعمال ہے تاہم اس کی مقدار 150 ملی گرام رکھی جاتی ہے جبکہ سزائے موت کے قیدی کے لیے یہ مقدار پانچ ہزار ملی گرام ہوتی ہے، جبکہ پوٹاشیم کلورائیڈ اور دیگر زہروں کا بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

برقی کرسی

electric chair

سزائے موت کے اس طریقہ کار پر بھی امریکا میں ہی عمل کیا جاتا ہے تاہم الاباما، فلوریڈا، ساﺅتھ کیرولائنا، ورجینیا اور دیگر چند ریاستوں تک ہی محدود ہے۔

اس طریقہ کار میں قیدی کو کرسی پر دھاتی پٹیوں سے باندھ دیا جاتا ہے جبکہ ایک گیلا اسفنج اس کے سر پر رکھ دیا جاتا ہے جس کے بعد عام طور پر پہلے 2 ہزار والٹ بجلی کو پندرہ سیکنڈ تک کرسی پر چھوڑا جاتا ہے جس سے قیدی بے ہوش اور دل کام کرنا چھوڑ دیتا ہے جبکہ اکثر دوسری بار بھی کرنٹ چھوڑا جاتا ہے جو اندرونی اعضاء کو نقصان پہنچاتا ہے۔

اس سزا پر سب سے پہلے عملدرآمد 1890 میں نیویارک میں ہوا تھا۔

گیس چیمبر

gas chamber

گیس چیمبر کے ذریعے سزائے موت پر عملدرآمد بھی امریکا میں ہی ہوتا ہے تاہم اسے سب سے پہلے جنگ عظیم دوئم کے دوران جرمن قید خانوں میں اپنایا گیا تھا جس کے ذریعے لاکھوں افراد کا قتل عام ہوا۔

اب اس طریقے پر امریکا کی 5 ریاستوں میں ہی عملدرآمد ہوتا ہے تاہم آخری بار اس طریقے سے سزائے موت 1999 میں دی گئی تھی، اس کے بعد سے یہ چیمبر کام نہیں کررہے بلکہ اس کی جگہ قیدیوں کو گیس چیمبر یا زہریلے انجیکشن میں سے کسی ایک کے انتخاب کا موقع دیا جاتا ہے۔

اس طریقے میں قیدیوں کو چیمبر کے اندر بند کرکے پوٹاشیم سائنائیڈ کو چھروں کی شکل میں وہاں موجود کرسی کے نیچے بنے ایک چھوٹے سے خانے کے ذریعے چھوڑا جاتا ہے۔

چوکہ یہ چیمبر مکمل طور پر بند ہوتا ہے اور زہریلی گیس کو چھوڑا جاتا ہے تو قیدیوں کی سانس تھم جاتی ہے جبکہ کہا جاتا ہے کہ یہ بہت تکلیف دہ طرقیہ ثابت ہوتا ہے۔

فائرنگ

gun shot

فائرنگ کے ذریعے سزائے موت دینے کا طریقہ دنیا بھر میں سب سے عام ہے اور 70 سے زائد ممالک میں اسے اپنایا گیا ہے، اگرچہ بیشتر ممالک میں فائرنگ اسکواڈ کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے تاہم صرف ایک شخص کو ہی اس مقصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

سوویت یونین کے دور میں صرف ایک گولی سر میں ماری جاتی تھی جبکہ چین میں اب بھی اس پر عملدرآمد ہوتا ہے۔

اسی طرح تائیوان میں پہلے قیدی کے جسم میں سن آور ادویات کو داخل کیا جاتا ہے اور پھر اس کے دل پر فائر کیا جاتا ہے۔

فائرنگ اسکواڈ

multi shoot

 

فائرنگ اسکواڈ کو استعمال کرنے کا طریقہ اکثر ممالک میں مختلف ہوتا ہے تاہم عام طور پر قیدی کی آنکھوں پر سیاہ پٹی اور ہاتھ پیر رسی سے باندھے جاتے ہیں۔

اس کے بعد کئی افراد پر مشتمل اسکواڈ قیدی پر فائرنگ کرتا ہے اور عام طور پر ایک شوٹر ایک گولی ہی فائر کرتا ہے۔

یہ طریقہ قدیم روم کے تیر اندازوں سے متاثر ہوکر اپنایا گیا، جو سزائے موت کے قیدیوں کو درخت پر باندھ کر تیر برساتے تھے۔

اس طریقے کو متعدد ممالک میں سزائے موت کے لیے اپنایا گیا ہے جن میں امریکا، برطانیہ، متحدہ عرب امارات، جنوبی افریقہ وغیرہ قابل ذکر ہیں۔

پھانسی

phansi

سزائے موت کا یہ طریقہ پاکستان، افغانستان، کیوبا، مصر، ایران، انڈونیشیاءاور ہندوستان سمیت کئی ممالک میں اپنایا گیا ہے اور اس کے لیے قیدی کو پھانسی گھاٹ پر کھڑا کرکے گلے میں رسی کا پھندہ باندھا جاتا ہے اور پھر تختہ کھینچ لی جاتا ہے، جس کے نتیجے میں وہ جھٹکے سے کچھ گہرائی میں جاتا ہے اور اکثر گردن ٹوٹنے سے مر جاتا ہے، جبکہ ایسا نہ ہونے پر دم گھوٹنے سے بھی موت واقع ہوجاتی ہے۔

سر قلم کرنا

sir qalam

سعودی عرب، جاپان اور کئی دیگر ممالک میں سزائے موت کے لیے سر قلم کرنے کو ترجیح دی جاتی ہے، جس کے لیے ایک تیز دھار تلوار کو استعمال کیا جاتا ہے۔ ویسے یہ طریقہ کار بہت پرانا ہے اور قدیم روم اور یونان میں اس پر عملدرآمد کے لیے واقعات تاریخ میں درج ہیں۔

گلوٹین

blade

گلوٹین درحقیقت ایک ایسی مشین ہوتی ہے جس میں لکڑی کے آٹھ سے 10 فٹ اونچے فریم میں بہت بھاری بلیڈ لگا دیا جاتا ہے اور کھٹکا ہٹانے پر بلیڈ تیزی سے نیچے آتا اور قیدی کا سر تن سے جدا ہوجاتا۔

یہ طریقہ کار انقلاب فرانس کے بعد فرانس میں مقبول ہوا تھا اور اس پر عملدرآمد بھی اسی ملک میں ہوتا تھا، تاہم 1981 میں وہاں سزائے موت دینے کے عمل کو کالعدم قرار دینے کے بعد اس پر عملدرآمد روک دیا گیا۔

سنگسار کرنا

sansaar

ملزمان پر پتھر برسا کر انہیں ہلاک کرنے کا عمل جسے سنگسار کرنا بھی کہا جاتا ہے، موجودہ عہد کا نہیں بلکہ قدیم یونان میں بھی اس کا تذکرہ موجود ہے۔

تاہم اب یہ اسلامی ممالک کی حد تک محدود ہے جن میں زنا کی سزا کے لیے اس پر عملدرآمد ہوتا ہے، ان ممالک میں افغانستان، نائیجریا، ایران، سوڈان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات قابل ذکر ہیں، جبکہ 1979 میں ضیاءالحق کے دور حکومتت میں حدود آرڈنینس کے تحت پاکستان میں بھی اس طریقے کو اپنانے کی منظوری دی گئی تاہم اس پر سرکاری طور پر کبھی عملدرآمد نہیں ہوا۔

آہنی پھندے سے گلا کھونٹ کر مارنا

gala ghotney wali chair

یہ اس فہرست میں درج دوسرا طریقہ ہے جو اب کسی ملک میں استعمال نہیں ہوتا، تاہم اب بھی اس کی تربیت کچھ ممالک کے جلادوں کو دی جاتی ہے، اس سزائے موت کے لیے قیدیوں کو ایک کرسی کی شکل کی مشین میں بٹھا کر اس کا گلا ایک ٹھوس پٹی سے باندھ دیا جاتا تھا، جسے سختی سے کسا جاتا تو دم گھونٹنے سے قیدی کی موت واقع ہو جاتی۔